آتے نہیں ہو تم
محرابِ جاں میں شمع جلاتے نہیں ہو تم
اب مسکرا کے سامنے آتے نہیں ہو تم
ظاہر میں تو حجاب ہو، درپردہ سامنا
پردہ اب اس ادا سے گراتے نہیں ہو تم
پہلے میری نظر تھی اور ارزانئ جمال
جس کا ہر ایک حرف تھا اِک دفترِ نشاط
وہ بات اب زبان پہ لاتے نہیں ہو تم
آنکھوں میں اشک، رخ پہ تمنا، لبوں پہ آہ
اب اس ادا سے سامنے آتے نہیں ہو تم
میرے پیامبر کے اٹھاتے تھے پہلے ناز
اب میرے دل کے ناز اٹھاتے نہیں ہو تم
آتی ہیں حسبِ قاعدہ راتیں اسی طرح
لیکن نظر بچا کے اب آتے نہیں ہو تم
یک لخت تم نے جوشؔ کو دل سے بھلا دیا
اور اس میں بھید کیا ہے بتاتے نہیں ہو تم
جوشؔ ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment