Wednesday, 2 December 2015

چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے

فلمی گیت

چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے 
ساون جو اگن لگائے اسے کون بجھائے 
پت جھڑ جو باغ اجاڑے وہ باغ بہار کھلائے 
جو باغ بہار میں اجڑے اسے کون کھلائے

ہم سے مت پوچھو کیسے مندر ٹوٹا سپنوں کا 
لوگوں کی بات نہیں ہے یہ قصہ ہے اپنوں کا 
کوئی دشمن ٹھیس لگائے تو مِیت جیا بہلائے 
من مِیت جو گھاؤ لگائے اسے کون مِٹائے 

مانا طوفان کے آگے نہیں چلتا زور کسی کا 
موجوں کا دوش نہیں ہے یہ دوش ہے اور کسی کا 
منجدھار میں نیّا ڈولے تو ماجھی پار لگائے 
ماجھی جو ناؤ ڈبوئے تو اسے کون بچائے

آنند بخشی

No comments:

Post a Comment