Sunday, 6 December 2015

دل کی باتیں بتا دیتی ہیں آنکھیں

دل کی باتیں بتا دیتی ہیں آنکھیں 
دھڑکنوں کو جگا دیتی ہیں آنکھیں 
دل پر چلتا نہیں جادو چہروں کا کبھی 
دل کو تو دیوانہ بنا دیتی ہیں آنکھیں 
وہ ہم سے بات نہیں کرتے تو نا کرے 
حال سارا ان کے دل کا سنا دیتی ہیں آنکھیں 
غم سدا رہتا نہیں، آدمی کے ساتھ 
اشک بنا کر چھلکا دیتی ہیں آنکھیں 
آتا ہے جب دورِ جوانی تو اے دوستو 
سندر سپنے ذہن میں بسا دیتی ہیں آنکھیں 
مانا کے نیند آتی ہے آنکھوں ہی کے رستے 
مگر کبھی کبھار نیند اڑا دیتی ہیں آنکھیں 
شکر ہے خدا نے عطا کی آنکھوں کی نعمت ہمیں 
درد و غم سارے دل کے  چھپا دیتی ہیں آنکھیں

افسر ماہ پوری

No comments:

Post a Comment