دل کی باتیں بتا دیتی ہیں آنکھیں
دھڑکنوں کو جگا دیتی ہیں آنکھیں
دل پر چلتا نہیں جادو چہروں کا کبھی
دل کو تو دیوانہ بنا دیتی ہیں آنکھیں
وہ ہم سے بات نہیں کرتے تو نا کرے
غم سدا رہتا نہیں، آدمی کے ساتھ
اشک بنا کر چھلکا دیتی ہیں آنکھیں
آتا ہے جب دورِ جوانی تو اے دوستو
سندر سپنے ذہن میں بسا دیتی ہیں آنکھیں
مانا کے نیند آتی ہے آنکھوں ہی کے رستے
مگر کبھی کبھار نیند اڑا دیتی ہیں آنکھیں
شکر ہے خدا نے عطا کی آنکھوں کی نعمت ہمیں
درد و غم سارے دل کے چھپا دیتی ہیں آنکھیں
افسر ماہ پوری
No comments:
Post a Comment