دور انديش مريضوں کی يہ عادت ديکھی
ہر طرف ديکھ ليا جب تيری صورت ديکھی
آئے اور اک نِگہِ خاص سے پھر ديکھ گئے
جبکہ آئے ہوئے بيمار ميں طاقت ديکھی
قوتيں ضبط کی ہر چند سنبھالے تھيں مجھے
محفلِ حشر ميں يہ کون ہے ميرِ مجلس؟
يہ تو ہم نے کوئی ديکھی ہوئی صورت ديکھی
سب يہ کہتے ہيں، اسےاب کوئی آزار نہيں
کيوں ستمگار! مرے ضبط کی قوت ديکھی
اس کی صورت کو بہت غور سے ديکھا ميں نے
سرسری طور سے جس نے تری صورت ديکھی
سونے والوں پہ نہ چمکا کبھی نورِ سحری
رونے والوں ہی کے چہروں پہ صباحت ديکھی
صفحۂ دل پہ جو مقصود تھا گہرا نقشہ
دير تک شکل تمہاری دمِ رخصت ديکھی
اس قدر ياس بھی ہوتی ہے کہيں دنيا ميں
رو ديئے ہم جو تری چشمِ عنايت ديکھی
مجھ کو تعليم سے فرصت ہی کہاں اے شبیرؔ
کہہ ليا شعر کوئی جب کبھی فرصت ديکھی
جوش ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment