تعجب کیا اگر میری پریشانی نہیں جاتی
کہ میں مشکل میں ہوں اور فکرِ آسانی نہیں جاتی
حصولِ آرزو کی دل میں یہ امید کیسی ہے
میں کیونکر مانوں ایسی بات جو مانی نہیں جاتی
ہوا ہوں تیری پیہم بے رخی سے اس قدر بے حس
بہار آئی بھی رخصت بھی ہوئی صحنِ گلستاں سے
تِرے وحشی کی لیکن چاک دامانی نہیں جاتی
تِری ہی زلفِ برہم کا اشارہ ہے اگر میری
پریشاں حالی و آشفتہ سامانی نہیں جاتی
نہ جانے کیا نظارہ پیش کرتا ہے جمال اس کا
کہ آنکھیں دیکھتی ہیں اور حیرانی نہیں جاتی
ہوا سرزد یہ کیسا جرم مجھ سے راہِ الفت میں
کہ بعد از عفو بھی میری پشیمانی نہیں جاتی
نہ سمجھے تیرے تیور ہی نہ اپنا حال ہی دیکھے
دلِ ناداں وہی ہے، اس کی نادانی نہیں جاتی
کروں کیا، ہے تقاضائے دلِ حسن آشنا وحشتؔ
غزل گوئی نہیں چھٹتی، غزل خوانی نہیں جاتی
وحشت کلکتوی
No comments:
Post a Comment