Friday, 4 December 2015

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے
دیکھو ادھر، نگاہ ملا کر نگاہ سے
شرمِ جفا سے چھپتے ہو تم داد خواہ سے
عذرِ گنہ تمہارا ہے بد تر گناہ سے
ان کی حیا و شرم نے رکھی ہے دل کی شرم
کیا ہو گا جب نگاہ ملے گی نگاہ سے
انصاف بھی یہی ہے یہی شانِ حسن بھی
ہاں ہاں، نظر چراؤ قتیل نگاہ سے
بیت الصنم سے دور نہیں حرم کی راہ
کیوں راہ پوچھیں زاہدِ گم کردہ راہ سے
کیوں شکوہ ہم کریں عدم التفات کا
وہ پوچھتے تو ہیں نگہِ گاہ گاہ سے
زاہد ہزار حیف کہ پہنچا نہ کوئی فیض
رندوں کے میکدے کو تِری خانقاہ سے
پروانوں کا ہجوم ہے شمعِ جمال پر
جیتا پھرے گا کون تِری جلوہ گاہ سے
شکوہ کروں تمہاری جفا کو تو رُو سیاہ
دیکھو نہ تم مجھے نگہِ عذر خواہ سے
خوشحالئ رقیب سے وہ شاد شاد ہے
یعنی ہیں بے خبر مِرے حالِ تباہ سے
گردن جھکی ہوئی ہے اٹھاتے نہیں ہیں سر
ڈر ہے انہیں نگاہ لڑے گی نگاہ سے
ہر چند وحشتؔ اپنی غزل تھی گری ہوئی
محفل سخن کی گونج اٹھی واہ واہ سے

وحشت کلکتوی

No comments:

Post a Comment