Friday, 4 December 2015

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

لطفِ نہاں سے جب جب وہ مسکرا دیئے ہیں
میں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دیئے ہیں
کچھ حرفِ آرزو تھا کچھ یادِ عیشِ رفتہ
جتنے تھے نقش دل میں، ہم نے مٹا دئیے ہیں
فرطِ غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں
اس نے عنایتوں کے دریا بہا دئیے ہیں
دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اب
اٹھتے تھے ولولے کچھ، ہم نے دبا دئیے ہیں
اس دلنشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھے
جب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دئیے ہیں
شوخ کر دیا ہے چھیڑوں سے ہم نے تم کو
کچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دئیے ہیں
کیا کوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والے
تُو نے تجلیوں کے پردے گرا دئیے ہیں
کرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرضِ نیاز ہر دم
اس کام کے طریقے دل نے بتا دئیے ہیں​

وحشت کلکتوی

No comments:

Post a Comment