دھیان اس کاکلِ مشکِیں کا جو آیا مجھ کو
خواب میں آ کے سیاہی نے دبایا مجھ کو
نہ سنا تھا سو وہ کانوں نے سنایا مجھ کو
جو نہ دیکھا تھا ان آنکھوں نے دکھایا مجھ کو
شکر صد شکر، تعلق نہ ہوا دل کا کہیں
اس پری وش کے جو گیسو کا ہوا سودائی
میں نے جانا کہ یہ دل پیچ میں لایا مجھ کو
جان بھی نکلی دمِ نزع تو آسانی سے
کارِ مشکل کوئی در پیش نہ آیا مجھ کو
جوشِ وحشت میں جو اکتا کے کبھی اٹھ بھاگا
سینکڑوں کوس غزالوں نے نہ پایا مجھ کو
شام سے پہلوئے خالی نے اک آفت ڈھائی
صبح تک طالعِ خفتہ نے جگایا مجھ کو
حشر کے روز میں اتنا تو کہوں گا آتشؔ
ان پری رویوں نے دیوانہ بنایا مجھ کو
خواجہ حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment