Saturday, 5 December 2015

حسرت جلوہ دیدار لئے پھرتی ہے

حسرتِ جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے 
پیشِ روزن پسِ دیوار لیے پھرتی ہے 
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید 
وحشتِ دل سرِ بازار لیے پھرتی ہے 
کعبہ و دیر میں وہ خانہ بر انداز کہاں 
گردشِ کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے 
کسی صورت سے نہیں جاں کو قرار اے آتشؔ 
تپشِ دل مجھے ناچار لیے پھرتی ہے 

خواجہ حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment