حسرتِ جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیشِ روزن پسِ دیوار لیے پھرتی ہے
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
وحشتِ دل سرِ بازار لیے پھرتی ہے
کعبہ و دیر میں وہ خانہ بر انداز کہاں
کسی صورت سے نہیں جاں کو قرار اے آتشؔ
تپشِ دل مجھے ناچار لیے پھرتی ہے
خواجہ حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment