Saturday, 5 December 2015

تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں

تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں 
رہی ہے ایک تصویرِ خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں 
رہا روشن میرے گھر کا چراغِ آرزو برسوں
برابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تک 
ہماری قبر پر رویا کرے گی آرزو برسوں
چمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھا 
کیا کی گل سے بلبل شکوۂ دردِ گلو برسوں
اگر میں خاک بھی ہوں گا تو آتشؔ! گردِ باد آسا 
رکھے گی مجھ کو سرگشتہ کسی کی جستجو برسوں 

خواجہ حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment