تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویرِ خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوں
رہا روشن میرے گھر کا چراغِ آرزو برسوں
برابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تک
چمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھا
کیا کی گل سے بلبل شکوۂ دردِ گلو برسوں
اگر میں خاک بھی ہوں گا تو آتشؔ! گردِ باد آسا
رکھے گی مجھ کو سرگشتہ کسی کی جستجو برسوں
خواجہ حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment