Thursday, 3 December 2015

کارواں حسن کے کیا کیا نہ نظر سے گزرے

کارواں حسن کے کیا کیا نہ نظر سے گزرے
کاش وہ بھی کبھی اس راہگزر سے گزرے
کوئی صورت نظر آئی نہیں آبادی کی
ہم تو ان اجڑے ہوئے شام و سحر سے گزرے
سفرِ عشق میں کھلتی ہیں ہزاروں راہیں
دل مسافر ہے، خدا جانے کدھر سے گزرے
پھر بھی کیوں خشک ہیں دامن میرے غمخواروں کے
کتنے طوفان مِرے دیدۂ تر سے گزرے
یوں تو طوفاں سے گزرتے ہیں سفینے اکثر
وہی کشتی ہے جو ساحل کے بھنور سے گزرے
دل کو یارا نہ ہوا آنکھ بھی جھپکانے کا
ایسے نظارے بھی کچھ اپنی نظر سے گزرے
اور بھی پھیل گئیں رنج و الم کی راہیں
رہ نوردانِ رہِ عشق جدھر سے گزرے

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment