Thursday, 3 December 2015

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں

نگاہیں در پہ لگی ہیں، اداس بیٹھے ہیں
کسی کے آنے کی لے کے ہم آس بیٹھے ہیں
نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں
الہٰی کیا مِری رخصت کا وقت آ پہنچا
یہ چارہ ساز مِرے کیوں اداس بیٹھے ہیں
 الہٰی کیوں تنِ مردہ میں جاں نہیں آتی
وہ بے نقاب ہیں، تربت کے پاس بیٹھے ہیں

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment