نگاہیں در پہ لگی ہیں، اداس بیٹھے ہیں
کسی کے آنے کی لے کے ہم آس بیٹھے ہیں
نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں
الہٰی کیا مِری رخصت کا وقت آ پہنچا
الہٰی کیوں تنِ مردہ میں جاں نہیں آتی
وہ بے نقاب ہیں، تربت کے پاس بیٹھے ہیں
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment