فراقِ یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
کبھی تکیہ اِدھر رکھا، کبھی تکیہ اُدھر رکھا
برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی
اسے زیرِ قدم رکھا، اسے پیشِ نظر رکھا
مٹائے دیدہ و دل دونوں میرے اشکِ خونیں نے
تمہارے سنگِ در کا ایک ٹکڑا بھی جو ہاتھ آیا
عزیز ایسا کیا مر کر اسے چھاتی پہ دھر رکھا
نہ کی کس نے سفارش میری وقتِ قتل، قاتل سے
کماں نے ہاتھ جوڑے، تیغ نے قدموں پہ سر رکھا
تِرے ہر نقشِ پا کو رہگزر میں سجدہ کر بیٹھے
جہاں تُو نے قدم رکھا وہاں ہم نے بھی سر رکھا
امیرؔ اچھا شگونِ مے کیا ساقی کی فرقت میں رکھا
جو برسا ابرِ رحمت جائے مے شیشوں میں بھر رکھا
امیر مینائی
No comments:
Post a Comment