ہم سے بگڑ کے غیر کا تو یار ہو چکا
ہونا جو تھا وہ اے بتِ عیار ہو چکا
ترغیب دی شراب کے پینے کی کیوں اسے
حق تو یہ ہے، میں پہلے گنہگار ہو چکا
اٹکھیلی کی چلے نہ چلے چال اب وہ شوخ
بالیں پہ میری کس لیے آیا ہے اے طبیب
تجھ سے علاجِ دردِ دلِ زار ہو چکا
آیا نہ ایک بار عیادت کو وہ مسیح
سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا
افسوس آنکھ خوابِ تغافل سے تب کھلی
جب آفتابِ حشر نمودار ہو چکا
جب آستانِ یار پہ حاضر ہوئے ہیں ہم
دربان سے یہ سنا ہے کہ دربار ہو چکا
کافی ہے زلف، جال بچھاتا ہے کس لیے
صیاد سے کہو میں گرفتار ہو چکا
دل راہ چلتے چھین لیا مجھ سے یار نے
یوسفؑ کا فیصلہ سرِ بازار ہو چکا
باقی ہے کس کو حوصلہ اخفائے عشق کا
رسوا امیرؔ کوچہ و بازار ہو چکا
امیر مینائی
No comments:
Post a Comment