Saturday, 5 December 2015

دیدنی ہے مری محفل کا سماں آج کی رات

آج کی رات

دیدنی ہے مِری محفل کا سماں آج کی رات
موج صہبا میں ہے رقصِ دو جہاں آج کی رات
تل گیا ہے کوئی اس طرح گل افشانی پر
ذرے ذرے پہ ہے جنت کا گماں آج کی رات
قابلِ دید ہے بکھرے ہوئے پھولوں کی بہار
ہر شکن فرش کی ہے کاہکشاں آج کی رات
ایک موہوم سا نقطہ ہے جہاں ارض و سما
ایسا اک دائرہ ہے رطلِ گراں آج کی رات
اثر مے سے ہے پگھلا ہوا سونا گویا
عرق آلودہ رخِ سیمبراں آج کی رات
پرتوِ بادۂ روشن سے ہے بے گرد و غبار
افقِ عربدۂ زہرہ وشاں آج کی رات
قابلِ (ظلم) نظم نہیں فطرت خوباں اس وقت
قادرِ جور نہیں طبع بتاں آج کی رات
شمع ہے قابل پروانۂ آشفتہ مزاج
حسن ہے مائلِ صاحب نظراں آج کی رات
آبِ حیواں کا نہ کر ذکر کہ حاصل ہے مجھے
دولتِ قربِ مسیحا نفساں آج کی رات
جوئے کہسار کے مانند گزر عالم سے
یہ ہے فرمانِ جہانِ گزراں آج کی رات
اف ری ساحل پہ غزلہائے رواں کے ہلچل
اک تلاطم ہے سرِ آبِ رواں آج کی رات
غلغلہ ساز کا ہے، دیر مغاں سے لے کر
تا بہ خلوت گہہِ حورانِ جناں آج کی رات
جیسے بھیگی ہوئی زلفوں کی مہک عود آمیز
نفس شام ہے یوں مشک فشاں آج کی رات
خادمانِ درِ ساقی کے سروں پر کج ہے
کلہِ خواجگئ کون و مکاں آج کی رات
حلقہ باندھے ہوئے میخوار ہیں سرگرمِ طواف
جوشؔ ہے قبلۂ رندانِ جہاں آج کی رات

جوشؔ ملیح آبادی

No comments:

Post a Comment