وصل کی شب بھی خفا وہ بتِ مغرور ہوا
حوصلہ دل کا جو تھا دل میں بدستور رہا
عمرِ رفتہ کے تلف ہونے کا آیا تو خیال
لیکن اک دم کی تلافی کا نہ مقدور رہا
غولِ صحرا نے مِرا ساتھ نہ چھوڑا شب بھر
گردشِ بخت کہاں سے ہمیں لائی ہے کہاں
منزلوں وادئ غربت سے وطن دور رہا
فصلِ گل آئی گئی صحنِ چمن میں سو بار
اپنے سر میں تھا جو سودا وہ بدستور رہا
جمع کس دن نہ ہوئے موسمِ گل میں میکش
روز ہنگامہ تہِ سایۂ انگور رہا
ہم بھی موجود تھے کل محفلِ جاناں میں امیرؔ
رات کو دیر تلک آپ کا مذکور رہا
امیر مینائی
No comments:
Post a Comment