Monday, 14 December 2015

ناصح نادان یہ دانائی نہیں

ناصحِ نادان یہ دانائی نہیں
دل کو سمجھاؤں میں سودائی نہیں
کس توقع پر امیدِ وصل اب
طاقتِ صبر و شکیبائی نہیں
دعوائے حسنِ جہاں سوز اس قدر
'پھر کہوں گے تم 'میں ہرجائی نہیں
دیکھ مضطر کیوں نہ پھیرے دشنہ پھر
یار ہے وہ کچھ تماشائی نہیں
گر نہیں ملتے، ملوں گا اور سے
کیوں مجھے کیا پاسِ رسوائی نہیں
ہے دعا بھی بے اثر کویا کہیں
عرضِ عاشق کی پزیرائی نہیں
دردِ دل تو سن لے ظالم ایک بار
گو دماغ چارہ فرمائی نہیں
چاہتا قاتل کو ہوں روزِ جزا
چاہ کی اب تک سزا پائی نہیں
ترکِ مذہب کیوں کروں مومنؔ میں کیا
اس صنم کو لاف یکتائی نہیں

مومن خان مومن

No comments:

Post a Comment