Tuesday, 1 December 2015

میں نے مانا کہ شکستہ ہیں مرے چنگ و رباب

میں نے مانا کہ شکستہ ہیں مِرے چنگ و رباب
میں نے مانا کہ مِرے ہونٹ ہیں محرومِ شراب
یہ بھی سچ ہے کہ مِرے شعروں میں طوفان نہیں
یہ بھی سچ ہے کہ مِرے نغموں میں ہیجان نہیں
یہ بھی سچ ہے کہ مِرے حوصلے بے تاب نہیں
یہ بھی سچ ہے کہ مِرے ولولے شاداب نہیں
یہ بھی سچ ہے کہ المناک کہانی ہے مِری
مہدِ افلاس کی پروردہ جوانی ہے مِری
یہ بھی سچ ہے کہ مجروح ہے سینہ میرا
بحرِ ہستی میں شکستہ ہے سفینہ میرا
پھر بھی انسان ہوں سینے میں جگر رکھتا ہوں
اپنے ذروں میں نہاں شمس و قمر رکھتا ہوں
صبحِ نو پھر مِرے ماتھے سے ہویدا ہو گی
آدمیت نئے انداز سے پیدا ہو گی

افسر ماہ پوری

No comments:

Post a Comment