Tuesday, 1 December 2015

عجیب چیر محبت کی واردات بھی ہے

عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے
حدیثِ دل بھی ہے، رودادِ کائنات بھی ہے
عبودیت تو ہمارا ہے شیوۂ فطری
اگر خدائی کریں ہم تو کوئی بات بھی ہے
ادھر بھی اٹھتی ہے اربابِ انجمن کی نظر
کچھ آپ ہی نہیں محفل میں میری ذات بھی ہے
مِرے وجود سے ناممکنات کا عالم
مِرے وجود سے دنیائے ممکنات بھی ہے
یہ ارتقائے بشر کی ہے کون سی منزل
کہ اس کی زد میں خدا بھی ہے کائنات بھی ہے

افسر ماہ پوری

No comments:

Post a Comment