عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے
حدیثِ دل بھی ہے، رودادِ کائنات بھی ہے
عبودیت تو ہمارا ہے شیوۂ فطری
اگر خدائی کریں ہم تو کوئی بات بھی ہے
ادھر بھی اٹھتی ہے اربابِ انجمن کی نظر
مِرے وجود سے ناممکنات کا عالم
مِرے وجود سے دنیائے ممکنات بھی ہے
یہ ارتقائے بشر کی ہے کون سی منزل
کہ اس کی زد میں خدا بھی ہے کائنات بھی ہے
افسر ماہ پوری
No comments:
Post a Comment