Sunday, 13 December 2015

چلیے سفر سے لوٹ چلیں شام ہو گئی

چلئے سفر سے لوٹ چلیں شام ہو گئی
پھر سے کسی کی جستجو ناکام ہو گئی
میلوں اداسیاں ہیں، اجالے ہیں لا پتہ
یوں راستوں سے روشنی گمنام ہو گئی
اس بت نے آنکھیں پھیر لیں جب بھی کہیں ملے
چاہت ہماری تلخئ ایام ہو گئی 
اس میں چمک اٹھے ہیں ستارے تمام رات
لے آنسوؤں کی جھیل تِرے نام ہو گئی
کتنے ہی لوگ ہو گئے ہر شام خیمہ زن
دل کی زمین کوچۂ اصنام ہو گئی
مسعودؔ میں نے چھو لیا اس کا حنائی ہاتھ
بوجھل فضائے شام بھی گلفام ہو گئی

مسعود جعفری 

No comments:

Post a Comment