مِرے آئینے میں نہ دیکھیے کسی ایسے ویسے ملال کو
میں غبار کر کے اڑا چکا کئی قیمتی مہ وسال کو
مِری رات میں ہے جو روشنی اسی اسم کا یہ طلسم ہے
اسی واسطے تو بجھا دیا ہے ہر اک چراغ وصال کو
مجھے نجدِ خواب میں چھوڑ کر کوئی شخص کب کا بچھڑ گیا
میں دکھوں کی شمعیں جلاؤں گا مگر اس طرح کہ دھواں نہ ہو
میں سوال میں نہ اٹھاؤں گا کبھی اپنے دستِ کمال کو
جنہیں منظروں میں کسی کمی کا گلہ ہے ربِ کریم سے
سو انہوں نے دیکھا نہیں ابھی تِرے روپ کو تِری چال کو
اسعد بدایونی
No comments:
Post a Comment