کچھ جذبے اور جنون لیے مایوس و ملول سے رہتے ہیں
ہم انسانوں کے جنگل میں اک شاخ ببول سے رہتے ہیں
یوں تو بنجر ہے پہلے سے لیکن اس دل کی دھرتی پر
کچھ خوشبو عہد گزشتہ کی کچھ چہرے پھول سے رہتے ہیں
ہم درویشانِ عہد کہن، ہم سرمستانِ بادۂ فن
صورت بھی نہیں اچھی اپنی، سیرت بھی نہیں اچھی اپنی
سرِ کوئے نگاراں ہم لیکن پھر بھی مقبول سے رہتے ہیں
ہر ماہ کٹوتی خرچے میں، ہر سال اضافہ اجرت میں
ہر روز بخیلی محنت میں کچھ لوگ اصول سے رہتے ہیں
اسعد بدایونی
No comments:
Post a Comment