دل میں کیا کیا ہوسِ دید بڑھائی نہ گئی
رو برو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی
ہم رضا شیوہ ہیں تاویلِ ستم خود کر لیں
کیا ہوا ان سے اگر بات بنائی نہ گئی
یہ بھی آدابِ محبت نے گوارا نہ کیا
ہم سے پوچھا نہ گیا نام و نشاں بھی ان کا
جستجو کی کوئی تمہید اٹھائی نہ گئی
دل کو تھا حوصلۂ عرضِ تمنا، سو انہیں
سرگزشتِ شبِ ہجراں سنائی بھی نہ گئی
غمِ دوری نے کشاکش تو بہت کی، لیکن
یاد ان کی دلِ حسرتؔ سے بھلائی نہ گئی
حسرت موہانی
No comments:
Post a Comment