تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے
کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے
یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے
سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے
چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا
یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے
اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی
اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن
بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحتِ قریۂ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں
مہر و انجم مرے اظہار میں آ جاتے ہیں
یہ بھی سرکارؐ کی رحمت ہے کہ ہم سے عاصی
منہ اٹھائے ہوئے دربار میں آ جاتے ہیں
اسوۂ احمدِ مُرسلﷺ پہ جو چلتے ہیں یہاں
نام وہ صاحبِ کردار میں آ جاتے ہیں
کئے پرورش وہ تو چاہت کے ساتھ
رکھیں دائیاں نیک اور پاک ذات
کئے پرورش وہ جو پالے تھی ماں
زر و مال کیا تھا تصدق تھی جاں
نہ اولاد تھی ان کو اور آل تھی
وہ ہوتے تھے صدقے یہ دیکھ بھال تھی
شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
کون کہتا ہے غم مصیبت ہے
یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے
لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں
میرے حق میں تو یہ قیامت ہے
حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی
کب عبادت کوئی عبادت ہے