Friday, 4 September 2020

اب کی بار آواز بدل کر دیکھوں گا

کمرے سے اک روز نکل کر دیکھوں گا
بارش میں اور دھوپ میں چل کر دیکھوں گا
آگ جلانا سیکھ رہا ہوں ابھی تو میں
جل جاۓ تو میں بھی جل کر دیکھوں گا
لفظوں سے پہچان لیا جاتا ہوں میں
اب کی بار آواز بدل کر دیکھوں گا
تم ہر سانچے میں کیسے ڈھل جاتے ہو
کہتے ہو تو میں بھی ڈھل کر دیکھوں گا
خون بہانے سے آخر کیا ملتا ہے
اک دن کوئی پھول مسل کر دیکھوں گا
گر جاتا ہوں روز ہی میں اونچائی سے
آج ذرا یہ خواب سنبھل کر دیکھوں گا
اب میں اچھی اچھی باتوں میں
اپنا سارا زہر اگل کر دیکھوں گا

اکبر معصوم

No comments:

Post a Comment