کمرے سے اک روز نکل کر دیکھوں گا
بارش میں اور دھوپ میں چل کر دیکھوں گا
آگ جلانا سیکھ رہا ہوں ابھی تو میں
جل جاۓ تو میں بھی جل کر دیکھوں گا
لفظوں سے پہچان لیا جاتا ہوں میں
تم ہر سانچے میں کیسے ڈھل جاتے ہو
کہتے ہو تو میں بھی ڈھل کر دیکھوں گا
خون بہانے سے آخر کیا ملتا ہے
اک دن کوئی پھول مسل کر دیکھوں گا
گر جاتا ہوں روز ہی میں اونچائی سے
آج ذرا یہ خواب سنبھل کر دیکھوں گا
اب میں اچھی اچھی باتوں میں
اپنا سارا زہر اگل کر دیکھوں گا
اکبر معصوم
No comments:
Post a Comment