یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی
اس جگہ پر کوئی پری تھی ابھی
سر بہ سر، رنگ و نُور سے لبریز
اک صراحی یہاں دھری تھی ابھی
اس خرابے میں کوئی اور بھی ہے
سانحہ کیا یہاں پہ گزرا ہے؟؟
یہ فضا کیوں ڈری ڈری تھی ابھی
میں بناتا تھا اس کے دل میں گھر
اور قسمت میں بے گھری تھی ابھی
اکبر معصوم
No comments:
Post a Comment