Saturday, 11 January 2014

سائے بادل امڈیں بجلی کڑکے

سائے

بادل اُمڈیں، بجلی کڑکے، طُوفاں بڑا ڈرائے
چنچل چندا دُور دُور سے دیکھے اور مُسکائے
نیلم نیل آکاش پہ اپنا پیلا جال بچھائے
مگھم مگھم سندیسوں سے اپنے پاس بلائے
لیکن ہاتھ نہ آئے
اونگھ رہے ہیں چار کوٹ میں پھیلے پھیلے سائے
قدم قدم پہ ناگ کھڑے ہیں اپنے پھن پھیلائے
اونچی نیچی چٹیل راہیں، کومل جی گھبرائے
انشاؔ کس کو پاس بٹھا کے دل کی بات بتائے
کوئی نہ سُننے آئے
نیلامی کے چوک میں انشاؔ جھوٹے دانت لگائے
جھوٹے سکھوں کو چنکا کر اونچی ہانگ لگائے
آدھی رات تلک بیٹھا رہتا ہوں لیمپ جلائے
سوچ رہا ہوں اتنے دن میں کتنے پاپ کمائے
کس کو گنتی آئے
یاروں نے تو لال پھریرے دیس لہرائے
لاکھ کوس کی باٹیں کاٹیں تب جا کر ستائے
اب سندر سندر کویتاؤں سے کوئی نہ دھوکا کھائے
انشاؔ جیسے ایک بار بھٹکے تو ہوئے پرائے
پھر واپس نہ آئے

ابن انشا

No comments:

Post a Comment