Saturday, 11 January 2014

ریشم کا یہ شاعر

ریشم کا یہ شاعر
تُوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی 
بُنتا ہے ریشم کے تاگے 
لمحہ لمحہ کھول رہا ہے 
پتّہ پتّہ بین رہا ہے 
اِک اِک سانس کو کھول کے اپنے تَن پر لِپٹاتا جاتا ہے 
اپنی ہی سانسوں کا قیدی 
ریشم کا یہ شاعر اِک دن
اپنے ہی تاگوں میں گُھٹ کر مر جائے گا

گلزار

No comments:

Post a Comment