Wednesday, 1 January 2014

تو دوست کسی کا بھی نہیں

تُو دوست کسی کا بھی نہیں  

کتنے آئے، کتنے گئے ہم آس لگائے بیٹھے ہیں
پلکوں پر انگارے روکے، دِیپ جلائے بیٹھے ہیں
کوئی ہماری بات سنو، ہم صبح سے آئے بیٹھے ہیں

صبح کی بے فکری دے کر شاموں کی ہر اک صحبت دے کر
لوگ تو دو کوڑی بھی نہ دیں، پر ہم نے بڑی قیمت دے کر
درد خریدا تھا، سو اب اس کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں

اُٹھیے یوں گھٹتے رہنے سے سر کو ہوتا ہے سودا 
وہ ہرجائی آپ کا جب نہ ہوا تو غیر کا کیا ہو گا 
زیدیؔ صاحب آپ یہ کس کا سوگ منائے بیٹھے ہیں

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment