Saturday, 11 January 2014

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پِھر آپ کی کمی سی ہے
دفن کر دو ہمیں کہ سانس مِلے
نبض کچھ دیر سے تَھمی سی ہے
کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں
برف پلکوں پہ کیوں جَمی سی ہے
وقت رہتا نہیں کہیں ٹِک کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے
کوئی رشتہ نہیں رہا، پِھر بھی
ایک تسلیم لازمی سی ہے
آئیے راستے الگ کر لیں
یہ ضرُورت بھی باہمی سی ہے

گلزار

No comments:

Post a Comment