Wednesday, 5 December 2012

وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا

وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
اِک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا
اِک عالمِ خوبی ہے میسّر، مگر اے کاش
اُس گُل کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا
اُس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر
اِک حلقۂ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

شہرِ گُل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اُسی خاک سے خوف آتا ہے
شکل بننے نہیں پاتی، کہ بگڑ جاتی ہے
نئی مٹی کو ابھی چاک سے خوف آتا ہے
وقت نے ایسے گھمائے اُفق آفاق، کہ بس
محورِ گردشِ سفاک سے خوف آتا ہے

آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ

آسمانوں پر نظر کر، انجم و مہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ
ہم بھی سوچیں گے دعائے بے اثر کے باب میں
اِک نظر تُو بھی تضادِ منبر و محراب دیکھ
دوش پر ترکش پڑا رہنے دے، پہلے دل سنبھال
دل سنبھل جائے تو سُوئے سینہٴ احباب دیکھ

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں
سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کی لئے پکارا نہیں

Sunday, 2 December 2012

ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں

ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
سروں کی فصل جب سے اُتری تھی تب سے واقف ہیں
کبھی چھپے ہوئے خنجر، کبھی کھچی ہوئی تیغ
سپاہِ ظلم کہ ایک ایک ڈھب سے واقف ہیں
ہے رات یوں ہی تو دشمن نہیں ہماری کہ ہم
درازئ شبِ غم کے سبب سے واقف ہیں

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
جو دل میں ہے اب اسکا تذکرہ کرنا پڑے گا
نتیجہ کربلا سے مختلف ہو، یا وہی ہو
مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا
وہ کیا منزل، جہاں راستے آگے نکل جائیں
سو اب پھر ایک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

Wednesday, 28 November 2012

سیاہ خانۂ امید رائگاں سے نکل

سیاہ خانۂ امیدِ رائیگاں سے نِکل
کھلی فضا میں ذرا آ، غبارِ جاں سے نکل
عجیب بِھیڑ یہاں جمع ہے ، یہاں سے نکل
کہیں بھی چل مگر اِس شہرِ بے اماں سے نکل
اِک اور راہ، اُدھر دیکھ ، جا رہی ہے وہیں
یہ لوگ آتے رہیں گے، تُو درمیاں سے نکل