وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
اِک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا
اِک عالمِ خوبی ہے میسّر، مگر اے کاش
اُس گُل کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا
اُس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر
اِک حلقۂ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا
اِک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا
اِک عالمِ خوبی ہے میسّر، مگر اے کاش
اُس گُل کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا
اُس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر
اِک حلقۂ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا