Sunday, 8 December 2013

جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحے

 جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحے

تیری تصویر سی راہوں میں بچھا جاتے ہیں

میں کہ راہوں میں بھٹکتا ہی چلا جاتا ہوں

مجھ کو خود میری نگاہوں سے چھپا جاتے ہیں

میرے بے چین خیالوں پہ ابھرنے والی

اپنے خوابوں سے نہ بہلا میری تنہائی کو

جب تری سانس مری سانس میں تحلیل نہیں

کیا کریں گی مری بانہیں تیری انگڑائی کو

جب خیالوں میں ترے جسم کو چھو لیتا ہوں

زندگی شعلۂ ماضی سے جھلس جاتی ہے

جب گزرنا ہوں غم حال کے ویرانے سے

میرے احساس کی ناگن مجھے ڈس جاتی ہے

ہمسفر تجھ کو کہوں یا تجھے رہزن سمجھوں

راہ میں لا کے مجھے چھوڑ دیا ہے تو نے

ایک وہ دن کہ ترا پیار بسا تھا دل میں

ایک یہ وقت کہ دل توڑ دیا ہے تو نے

ماضی و حال کی تفریق وہ قربت یہ فراق

پیار گلشن سے چلا آیا ہے زندانوں میں

بے زری اپنی صداقت کو پرکھتی ہی رہی

تل گیا حسن زر و سیم کی میزانوں میں

غیر سے ریشم و کمخواب کی راحت پا کر

تو مجھے یاد بھی آئے گی تو کیا آئے گی

ایک مستقبل زریں کی تجارت کے لیے

تو محبت کے تقدس کو بھی ٹھکرائے گی

اور میں پیار کی تقدیس پہ مرنے والا

درد بن کر ترے احساس میں بس جاؤں گا

وقت آئے گا تو اخلاص کا بادل بن کر

تیری جھلسی ہوئی راتوں پہ برس جاؤں گا


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment