Wednesday, 7 October 2015

کہاں کی مٹی میں کتنا زر ہے خبر رسانو

کہاں کی مٹی میں کتنا زر ہے، خبر رسانو
تمہیں خزانوں کی کچھ خبر ہے، خبر رسانو
نہ تم نے دیکھا نہ کیمروں نے تمہیں دِکھایا
جو ایک "منظر" پسِ نظر ہے، خبر رسانو
کہاں اجالا کہاں اندھیرا ہے، جانتے ہو
دِیا کدھر ہے ہوا کدھر ہے، خبر رسانو
کسے بناتے ہو، سب تماشائی جانتے ہیں
پسِ تماشا، تماشا گر ہے، خبر رسانو
سنا ہے تم نے سنا ہوا ہے، ہمیں سناؤ
جو اِک فسانہ نگر نگر ہے، خبر رسانو
تمہیں تو دیدہ وری کا دعویٰ ہے، تم بتاؤ
کہاں ہے کشتی، کہاں بھنور ہے، خبر رسانو
زمیں ہلاؤ،۔ فلک گراؤ،۔ یقیں دلاؤ
بشر کا کوئی "خدا" اگر ہے، خبر رسانو

دانیال طریر 

No comments:

Post a Comment