ہزار گردشِ شام و سحر سے گزرے ہيں
وہ قافلے جو تِری رہگزر سے گزرے ہيں
ابھی ہوس کو ميسر نہيں دلوں کا گداز
ابھی يہ لوگ مقامِ نظر سے گزرے ہيں
ہر ايک نقش پہ تھا تيرے نقشِ پا کا گماں
نجانے کون سی منزل پہ جا کے رک جائيں
نظر کے قافلے ديوار و در سے گزرے ہيں
رحیلِ شوق سے لرزاں تھا زندگی کا شعور
نجانے کس لیے ہم بے خبر سے گزرے ہیں
کچھ اور پھيل گئيں درد کی کٹھن راہيں
غمِ فراق کے مارے جدھر سے گزرے ہيں
جہاں سرور ميسر تھا جام و مے کے بغير
وہ میکدے بھی ہماری نظر سے گزرے ہيں
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment