گیتوں سے جب بھر جاتا ہوں، گانے لگتا ہوں
دیواروں سے اپنا سر ٹکرانے لگتا ہوں
کانٹوں کا ملبوس پہن کر آتا ہوں باہر
اور مٹی پر اپنے پھول بنانے لگتا ہوں
ساری رات بُنا کرتا ہوں ایک سنہرا جال
اپنے ہی بچوں کی چیخیں کان میں آتی ہیں
جب بھی کسی بستی کو آگ لگانے لگتا ہوں
وہ بھی تھک کر گر جاتی ہے میرے بازو پر
رفتہ رفتہ میں بھی ہوش میں آنے لگتا ہوں
پہلے اس کے نام کو لکھ کر تکتا ہوں پہروں
پھر اس آگ سے اپنے زخم جلانے لگتا ہوں
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment