رزق محبت والا ہم پر
آسمان سے آیا تھا
ہم نے زیادہ کے لالچ میں
رب کا رزق ٹھکرایا تھا
تم سے شکر نہیں ہو پایا
میں نے صبر گنوایا تھا
جِس نے پہلا قتل کِیا
وہ اپنا ہی ماں جایا تھا
خواب میں آیا تھا جو شخص
جس نے تم کو سمجھایا تھا
پتہ نہیں پوچھا اُس سے؟
وہ عشق نگر سے آیا تھا
سرکش ہو بیٹھی تھی تم
اور جبر میرا ہمسایہ تھا
دِیا بےچارہ کب تک جلتا
ہوا نے انت مچایا تھا
میں عشق کمانے نکلا تھا
پر نفرت جیب میں لایا تھا
ہم مٹی کے پُتلوں پر
ابلیس آتش کا سایہ تھا
واصف اسلم
No comments:
Post a Comment