Friday, 12 February 2021

رزق محبت والا ہم پر آسمان سے آیا تھا

 رزق محبت والا ہم پر

آسمان سے آیا تھا

ہم نے زیادہ کے لالچ میں

رب کا رزق ٹھکرایا تھا

تم سے شکر نہیں ہو پایا

میں نے صبر گنوایا تھا

جِس نے پہلا قتل کِیا

وہ اپنا ہی ماں جایا تھا

خواب میں آیا تھا جو شخص

جس نے تم کو سمجھایا تھا

پتہ نہیں پوچھا اُس سے؟

وہ عشق نگر سے آیا تھا

سرکش ہو بیٹھی تھی تم

اور جبر میرا ہمسایہ تھا

دِیا بےچارہ کب تک جلتا

ہوا نے انت مچایا تھا

میں عشق کمانے نکلا تھا

پر نفرت جیب میں لایا تھا

ہم مٹی کے پُتلوں پر

ابلیس آتش کا سایہ تھا


واصف اسلم

No comments:

Post a Comment