آنکھ میں آنسو، لبوں پر سسکیاں رہ جائیں گی
کانپتے ہاتھوں سے لکھی عرضیاں رہ جائیں گی
خوف سے سارے مصور خودکشی کر لیں گے اب
💢شہر میں خالی لٹکتی سُولیاں رہ جائیں گی
لاش میری بیچ کے قاتل دے دیں گے خوں بہا
محل میں انصاف کے سرگوشیاں رہ جائیں گی
شدتِ بارش⛆ نے انجامِ تصنع لکھ دیا
رنگ دُھل جائیں گے سادہ تتلیاں رہ جائیں گی
خشک کھیتوں کی منڈیروں پر مِرے گا کاشتکار
آسماں پر بَین کرتی بدلیاں 🌤 رہ جائیں گی
جلد ہی طاہر تجھے سب کا پتہ چل جائے گا
تیرا سرمایہ فقط خوش فہمیاں رہ جائیں گی
مرغوب حسین طاہر
No comments:
Post a Comment