عارفانہ کلام
"آ اے امامِ عصر! حرم میں اذان دے"*
خُلدِ بریں دے نہ مجھے دو جہان دے
کچا سہی پہ مجھ کو نجف میں مکان دے
عباسؑ کا علم ہے سجانا سرِ اُفق
فطرس یا جبرائیلؑ سی مجھ کو اڑان دے
وہ مال دے جو شہؑ کی عزا پر لٹاؤں میں
اولاد وہ جو آلِ محمدﷺ پہ جان دے
ایسی زبان مجھ کو عطا کر مرے خدا
جو منبرِ صلیب پہ حق کی اذان دے
امشب مِرے مکاں میں ہے مجلس سو اس لیے
گھر میں بچھانے کے لیے اک آسمان دے
بائیس سال سے مِری آنکھیں ہیں تشنہ کام
اے کاش جامِ دید امامِ زمانؑ دے
وسیم عون نقوی
٭محسن نقوی کی منقبت کی زمین میں غزل کہی گئی ہے
No comments:
Post a Comment