Wednesday, 18 October 2017

ہزار حوصلہ یوں تو جہان بھر سے ملا

ہزار حوصلہ یوں تو جہان بھر سے ملا
بڑھاوا اور ہی لیکن تِری نظر سے ملا
ہوا میں اس نے اشارہ کوئی اچھال دیا
چلو یہ پھول تو اک شاخِ بے ثمر سے ملا
قدم قدم پہ ہے میرے لہو کی گل کاری
سراغ رنگ وفا میری رہگزر سے ملا

Monday, 2 October 2017

یا نبی نور ہو تم جلوۂ یزداں کی قسم

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

یا نبیﷺ نور ہو تم جلوۂ یزداں کی قسم
جیسے تم ہو نہیں ایسا کوئی ایماں کی قسم
مرتبہ حق سے کسی اور کو ایسا نہ ملا
تاجِ خسرو کی قسم، تختِ سلیماں کی قسم
دونوں عالم میں نہیں کوئی بھی تم جیسا حسیں
ماہِ تاباں کی قسم، مہرِ درخشاں کی قسم

وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے

وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے
جس سے تِری نگاہ ملے، یا نظر پھرے
راہِ جنوں میں یوں تو ہیں لاکھوں ہی سر پھرے
یا رب مِری طرح نہ کوئی عمر بھر پھرے
رفتارِ یار کا اگر انداز بھول جائے
گلشن میں خاک اڑاتی نسیمِ سحر پھرے

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے

ساقیا! تو نے مِرے ظرف کو سمجھا کیا ہے 
زہر پی لوں گا تِرے ہاتھ سے، صہبا کیا ہے
میں چلا آیا تِرا حسنِ تغافل لے کر 
اب تِری انجمنِ ناز میں رکھا کیا ہے
نہ بگولے ہیں نہ کانٹے ہیں نہ دیوانے ہیں 
اب تو صحرا کا فقط نام ہے صحرا کیا ہے

آگ دامن میں لگ جائے گی دل میں شعلہ مچل جائے گا

آگ دامن میں لگ جائے گی، دل میں شعلہ مچل جائے گا
میرا ساغر نہ چهونا کبھی، ساقیا! ہاتھ جل جائے گا
ایک دن وہ ضرور آئیں گے، درد کا سایہ ٹل جائے گا
اس زمانے کی پرواہ نہیں، یہ زمانہ بدل جائے گا
آ گیا میرا آنکھوں میں دم، اب تو جلوہ دیکھا دیجئے
آپ کی بات رہ جائے گی، میرا ارماں نکل جائے گا

کیا تھا جو گھڑی بھر کو تم لوٹ کے آ جاتے

کیا تھا جو گھڑی بھر کو تم لوٹ کے آ جاتے
بیمارِ محبت کو صورت تو دکھا جاتے
اتنا تو کرم کرتے دکھ درد مجھے دے کر
اک بار میرے آنسو دامن سے سُکھا جاتے
پھر دردِ جدائی کو محسوس نہ میں کرتا
اچھا تھا اگر مجھ کو دیوانہ بنا جاتے

اہل دیر و حرم رہ گئے

اہلِ دَیر و حرم رہ گئے 
تیرے دیوانے کم رہ گئے
ان کی ہر شے سنواری مگر 
پھر بھی زلفوں میں خم رہ گئے
دیکھ کر ان کی تصویر کو 
آئینہ بن کے ہم رہ گئے