Thursday, 30 April 2026

عاشق خستہ حال اٹھ حسن سے رسم و راہ کر

 عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر

جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر

❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤

سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر

پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے

تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر

درست ہے کہ مرا حال اب زبوں بھی نہیں

 درست ہے کہ مِرا حال اب زبوں بھی نہیں

مقامِ سجدہ کہ یہ جام سر نگوں بھی نہیں

نہیں کہ شورشِ بزمِ طرب فزوں بھی نہیں

دلیلِ شورشِ جاں اک چراغ خوں بھی نہیں

حدیثِ شوق ابھی مختصر ہے چپ رہیے

ابھی بہار کا کیا غم ابھی جنوں بھی نہیں

خواب کی رات سے نکل آئی

 خواب کی رات سے نکل آئی

اپنے جذبات سے نکل آئی

وہ ملاقات جو تصوّر تھی

اس ملاقات سے نکل آئی

میرے بس سے نکل گئے حالات

میں بھی حالات سے نکل آئی

جو مرا ہمنوا نہیں ہوتا

  جو مِرا ہمنوا نہیں ہوتا

وہ تِرے شہر کا نہیں ہوتا

شاخ پر ہیں ہرے بھرے پتّے

پھُول لیکن ہرا نہیں ہوتا

آج بھی آہنی جنُوں کا حق

پتھروں سے ادا نہیں ہوتا

آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے

 آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے

مِرے ہر زخم کے ٹیسوں میں کمی ہوتی ہے 

آپ کہتے تھے میں آسودہ ہوں اپنے گھر میں

پھر یہ کیوں آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے

اب مِرے ہجر کو اوقات کے خانے میں نہ رکھ

ایک لمحہ بھی یہاں ایک صدی ہوتی ہے

دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

 دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

پر راہ بہت دور ہے، بارش بھی بہت ہے

دیکھو تو سہی خواہ اُچٹتی سی نظر سے

میرے لیے اتنی سی نوازش بھی بہت ہے

تُو نے تو کہا تھا کہ؛ نمائش نہیں اچھی

اک داغ دکھایا، یہ نمائش بھی بہت ہے

اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

  اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

میں اپنے آپ سے انکار کر کے آیا ہوں

مجھے خبر ہے کہ یہ پیاس مار ڈالے گی

مگر میں آب کو دُشوار کر کے آیا ہوں

بچا بچا کے رکھا تھا جسے زمانے سے

وہ گُنبد آج میں مسمار کر کے آیا ہوں