Friday, 29 November 2013

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

 شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

اب سفر کا استعارہ اور ہے

ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے

اس سمندر کا کنارہ اور ہے

موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے

ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے

جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا

تیر سینے میں اتارا اور ہے

متن میں تو جرم ثابت ہے مگر

حاشیہ سارے کا سارا اور ہے

ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر

آسماں کا ہی اشارہ اور ہے

دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی

تیز بارش کا سہارا اور ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارا اور ہے

سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیے

فصل غم کا گوشوارہ اور ہے

دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری

پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے

اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں

آسماں پر ایک تارہ اور ہے

حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے

آج سے رستہ ہمارا اور ہے


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment