Friday, 10 July 2020

ٹاس ہو اور تو مری نکلے

ٹاس ہو، اور تُو مِری نکلے
جیسے مفلس کی لاٹری نکلے
کوئی گلیوں میں نام لے میرا
اور تُو "دوڑتی" ہوئی نکلے
سخت مایوس ہوں پلس والے
جیب سے صرف شاعری نکلے
تیری جانب سے بس محبت کی
کیا ضروری ہے لیٹ ہی نکلے
وہ کرے کوئی بات رونے کی
اور بے ساختہ "ہنسی" نکلے
کاش مہدی حسن کو سنتی ہو
اور دلدادہ "جون" کی نکلے

احمد فرہاد

No comments:

Post a Comment