Friday, 10 July 2020

خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملے

خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملے
ملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملے
کہیں خود اپنی درستی کا دکھ نہیں دیکھا
بہت جہاں کی درستی کے بندوبست ملے
کہیں تو خاک نشیں کچھ بلند بھی ہوں گے
ہزاروں اپنی بلندی میں کتنے پست ملے
یہ سہل فتح تو پھیکی سی لگ رہی ہے مجھے
کسی عظیم مہم میں کبھی "شکست" ملے
یہ شاخِ گل کی لچک بھی پیام رکھتی ہے
بسانِ تیغ تھے جو ہم کو حق پرست ملے
سنا ہے چند تہی دامنوں میں ظرف تو تھا
سرور ہم کو تونگر بھی تنگ دست ملے

آل احمد سرور

No comments:

Post a Comment