جو ہو سکے تو مِرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دئیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
جو ہو سکے تو مِرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دئیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
خود اپنی ذات کا نام و نشان بھول گئے
رہا ہوئے تو پرندے اڑان بھول گئے
اس انہماک سے کار زمیں میں محو ہوئے
زمیں پہ چھایا ہوا آسمان بھول گئے
ہر امتحان میں پہلا سبق تو یاد آیا
کتاب عشق کہیں درمیان بھول گئے
سائیں اپنے نفس کو ہم نے یوں ہی نہیں ناکام کیا
عمر گزاری در بدری میں کب کس جا آرام کیا
غیر تو آخر غیر ہیں یارو کیا سوچیں اب کس کے تئیں
ہم نے کون جگہ اپنے کو پابند احکام کیا
اہل خرد نے جشن بہاراں یوں بھی منایا اب کے برس
جیب و گریباں چاک کیے اور دیوانوں میں نام کیا
بعد لٹنے کے ترا درد ہے لاچار کے پاس
یہ نشانی ہے تری اب ترے بیمار کے پاس
یہی معراجِ محبت ہے یہی حاصلِ عشق
سجدہ کر لینا مرا سنگِ درِ یار کے پاس
آخری وقت ہے دیدار تمہارا کر لوں
دو گھڑی کے لئے آ جائیے بیمار کے پاس
نشۂ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر
دیکھ حدیثِ دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر
سارا حسابِ جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے
چاہے تو دے اماں مجھے، چاہے تو درگذر نہ کر
اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ
اے میرے دل ٹھہر ذرا، یہ جو مہم ہے سر نہ کر
بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ
ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ
مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں
ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ
اک نام لوح ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں
کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے رنگ
سچائیوں کے ساتھ
ذہن کا غم، ذات کا غم ، ذات کے رشتوں کا غم
کتنے غم ہیں جو شعورِ زندگی کے ساتھ ہیں
اک مصیبت ہے، بلا ہے آگہی کی روشنی
کس قدر تاریکیاں اس روشنی کے ساتھ ہیں
٭
میں ہوں اک فنکار و شاعر اور میری زندگی
زندگی کے غم میں جلنے کے سوا کچھ بھی نہیں