Tuesday, 1 February 2022

آج حد سے گزر گیا ہے وہ

 آج حد سے گُزر گیا ہے وہ

عشق کر کے مُکر گیا ہے وہ

نقش پا تک نظر نہیں آتا

کون جانے کدھر گیا ہے وہ

جتنا پانی تھا گہرے دریا کا

ایک کوزے میں بھر گیا ہے وہ

یاد ان کی دل میں آئی وہ آسودگی لئے

یاد ان کی دل میں آئی وہ آسودگی لیے

ظلمت میں آئے جیسے کوئی روشنی لیے

اے سعیٔ ضبط لوگوں کو کیا دوں ثبوت غم

ڈر سے ہنسی کے میں نے تو آنسو بھی پی لیے

ضِدینِ کیفیات کو ہم نے سُلا دیا

جیتے رہے خوشی سے غم عاشقی لیے

بغیر تولے پروں کو اڑان مت لینا

 بغیر تولے پروں کو اُڑان مت لینا

زمین والو! کبھی آسمان مت لینا

یہ بام و در بھی اگر جسم کے پگھل جائیں

کسی سے بھیک میں تم سائبان مت لینا

بہت عظیم ہنر ہے یہ خاکساری بھی

تم اپنے سر پہ مگر خاکدان مت لینا

خدا کا جائے مسکن ہے کہاں

 بہت سے لوگ کہتے ہیں

خدا رہتا ہے آسمانوں کی بلندی پر

بہت سے لوگ کہتے ہیں

خدا رہتا ہے مسجد و محراب و گنبد میں

کبھی تم نے بھی خود سوچا

خدا کا جائے مسکن ہے کہاں؟

گزرے گزر رہی تھی اگرچہ گزر گئی

 گزرے گزر رہی تھی اگرچہ گزر گئی

وہ زندگی بھی کیا تھی کہ لمحے میں مر گئی

یہ بات تھی کہ بعد رفاقت اسے کہیں

دیکھا بھی اک نظر تھا کہ بس آنکھ بھر گئی

مایوسیوں نے راہ کا رستہ بھلا دیا

منزل جو تھی میری وہ حدوں میں اتر گئی

مرے شیریں سخنو لے کو مدھم نہ کرو

 مِرے شیریں سخنو

لے کو مدھم نہ کرو

مِرے شیریں سخنو

ہر ایک گام سگانِ غنیم کا غوغا

ہر ایک بام پہ آسیب قہر کا پرتو

ہر ایک موڑ شبِ ظلم کے قصیدہ گو

فقط یہ جان کے ہم نے سہے الم جاناں

 فقط یہ جان کے ہم نے سہے الم جاناں

کہ زندگی میں تجھے ہو نہ کوئی غم جاناں

وہ ایک بات جو تیرے حضور کہہ نہ سکے

وہ کی تِرے لب و رخسار میں رقم جاناں

تمہارے جھوٹے دلاسوں سے کیا ملے راحت

یہ دردِ دل ہے جو ہوتا نہیں ہے کم جاناں