Monday, 14 December 2015

پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ

پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ
چلے آتے ہیں آدھی رات کو مے خانہ روزانہ
محبت جان بھی دیتی ہے، ترساتی بھی ہے یارو
کبھی پیمانہ برسوں میں، کبھی پیمانہ روزانہ
پریشاں ہوں کنول جیسی یہ آنکھیں چوم لینے دو
کہ ان پھولوں پہ منڈلائے گا یہ بھنورا نہ روزانہ
شرابوں کو نہ جانے لوگ کیوں بدنام کرتے ہیں
کہ میں تو مر گیا ہوتا اگر پیتا نہ روزانہ
کبھی چلمن اٹھا کر دیکھ تو لو، بات مت کرنا
کہ دل تھامے ہوئے آتا ہے اک دیوانہ روزانہ
کسی دن بزمِ ساقی سے نکالے جاؤ گے قیصر
نبھاؤ گے کہاں تک ٹھاٹ شاہانہ روزانہ

قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment