جاگنا درد کا اور آنکھ کا نم ہو جانا
اک کرم ہے دل و دیدہ کا بہم ہو جانا
سجدۂ شوق جہاں عمر کا حاصل ٹھہرے
چشم کو چاہیۓ واں نقشِ قدم ہو جانا
منتظر ساحلِ جاں کب سے ہے سیرابی کا
موجِ خوش آب! اِدھر بھی کوئی دَم ہو جانا
نور میں ڈوبتے جاتے ہیں دلوں کے در و بام
پرتَوِ ماہ سے سینے کا حرم ہو جانا
دل کو داتا سے تعلق ہے تو ممکن ہی نہیں
بخششِ خاص کا امید سے کم ہو جانا
ڈاکٹر توصیف تبسم
No comments:
Post a Comment