وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
حریفِ قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
جدا جدا نظر آتی ہے جلوہ گاہ کی تاثیر
قرار ہو گیا موسیٰ کو، بے قرار ہوں میں
خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مِرے
کرم کا اہلِ ستم سے امیدوار ہوں میں
عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
کہا جو میں نے غمِ ہجر سے دوچار ہوں میں
شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
مِرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
امیر کرتے ہیں عزت مِری، ہوں وہ سائلؔ
گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں
سائل دہلوی
No comments:
Post a Comment