پھڑ پھڑانے سے تھک گئی ہوں میں
قید خانے سے تھک گئی ہوں میں
یہ کوئی "حل" نہیں "اداسی" کا
مسکرانے سے تھک گئی ہوں میں
کوئی" تو "دائمی" ٹھکانہ" ہو
دینے والے "تُو" کب یہ سمجھے گا
غم اٹھانے سے تھک گئی ہوں میں
ہو کوئی رات، "آنکھ" لگ جائے
دل لگانے سے تھک گئی ہوں میں
دل کے زنداں میں رکھ لیا تم نے
اس ٹھکانے سے تھک گئی ہوں میں
سارے رشتوں کو "آگ" لگ جائے
اب نبھانے سے تھک گئی ہوں میں
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment