Thursday, 1 April 2021

یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے

 یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے

تمہاری یاد بھی آئی ہزار حیلے سے

کوئی بھی رُت ہو اسے سوگوار رہنا ہے

یہ آنکھ بھی ہے اسی ماتمی قبیلے سے

بدن کا لمس ہوا کو بنا گیا خوشبو

نظر کے سحر سے منظر ہوئے نشیلے سے

یہ زندگی بھی فقط ریت کا سمندر ہے

کبھی نگاہ جو ڈالو فنا کے ٹیلے سے

یہ شاعری مجھے شہباز یوں بھی پیاری ہے

کہ میرا خود سے تعلق ہے اس وسیلے سے


شہباز خواجہ

No comments:

Post a Comment